پوری کی پوری بستی غائب ہو گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سر جوڑ ۔
آج سے تقریبا ایک سو سال پہلے یعنی 1930 میں کینیڈا میں ایک ایسا واقع رونما ہوا جس میں سینکڑوں لوگ اچانک بغیر کسی وجہ کے اور بغیر کوئی نشان چھوڑے غائب ہو گئے۔ 26 نومبر 1930 کو کینیڈا کے اخبارات میں ایک نہایت عجیب و غریب خبر نے لوگوں کے اوسان خطا کر دیے اور یہ واقعہ ایک دم سے خوف اور دہشت کا سبب بن گیا اخبارات کی ہیڈ لائن تھی Lake Anjikuni یہ ایک ایسا خوفناک واقعہ تھا جس نے پورے کینیڈا کے لوگوں میں خوف اور دہشت کی لہر اڑا رہی تھی ۔ شمالی کینیڈا کے دور دراز اور سر ترین مقام پر ایک قدرتی جھیل موجود ہے جسے Lake Anjikuni کہا جاتا ہے۔
![]() |
| Lake Anjikuni Incident and Mystery |
یہ کینیڈا کا وہ علاقہ ہے جو قطب شمالی سے بے حد نزدیک ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں رہنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہاں پہ موسم اس قدر سخت اور شدید سرد ہوتا ہے کہ یہاں پہ بچ پانا بھی بے حد مشکل ہے اس ا Lake Anjikuni کے کنارے پر ایک چھوٹا سا قبیلہ آباد تھا جسے سکیمو ٹرائب کہا جاتا ہے یہ سکیمو لوگوں پر مشتمل ایک قبیلہ تھا ، اور ان کی آبادی تقریباً 150 سے 200 افراد تھی۔ اس پورے علاقے میں اس قبیلے کے علاوہ سینکڑوں کلومیٹر دور تک کوئی آبادی موجود نہیں تھی اور نہ ہی آج تک کوئی موجود ہے۔ یہ علاقہ مختلف جانوروں کا مسکن ہے جن کی شکار کے لیے اس وقت بھی لوگ یہاں پر جایا کرتے تھے اور اس کے بعد بھی جاتے رہیں ۔ سکیموں لوگ ہیں جو شدید ترین برفانی علاقوں میں رہتے ہیں اور مخصوص انداز سے برف کی تہہ سے ہی اپنے گھر اور خیمے ڈھانپ لیتے ہیں۔ یہ زیادہ تر امریکی ریاست الاسکا اور کینیڈا کے شمالی علاقوں میں رہتے ہیں۔
یہ نومبر 1930 کا ایک نارمل سا لیکن شدید ٹھنڈا دن تھا جب یہاں پہ آنے والے مختلف شکاریوں میں ایک شخص بھی یہاں برفانی جانوروں کا شکار کرنے کے لیے آیا۔ اس شکاری کا نام جو لیول تھا جو لیول شکار کرنے میں اس قدر مگن ہو گیا کہ اسے وقت گزرنے کا احساس ہی نہ رہا۔ جب دن گزر گیا اور رات ڈھلنے لگی تو اس نے واپسی کا سوچا اور اس کا خیال تھا کہ وہ Lake Anjikuni کے کنارے پر آباد اس اسکیموں قبیلے کے پاس رات گزار کر اگلے دن واپس چلا جائے گا ۔ اسکیموں قبیلے کے لوگ آنے والے شکاریوں اور سیاہوں کا بڑی خوش دلی سے خیر مقدم کرتے تھے اور ان کی خاص خوشامد بھی کرتے تھے تاکہ انہیں مہمان کی ضیافت کے بدلے میں کچھ رقم یہ چیزیں مل جائیں۔
![]() |
| Lake Anjikuni investigation |
وہ جیسے جیسے سکیمو لوگوں کی بستی کی طرف بڑھ رہا تھا ویسے ویسے اسے احساس ہونے لگا کہ آج کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہیں ۔ اسکیموں قبیلے کے لوگوں نےرسہ گاڑی کھینچنے کے لیے کتے پال رکھے تھے جو برف پر پھسلنے والی گاڑیوں کو کھینچتے تھے۔ یہ کتے نہ صرف ان گاڑیوں کو کھینچتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ اس قبیلے کی حفاظت کا کام بھی کرتے ہیں۔ جو لیول کو حیرانی اس بات پر بھی کہ اس سے پہلے جب بھی وہ بستی کے نزدیک پہنچتا تھا تو بستی میں موجود کتے کسی اجنبی کی آمد پر بھونکنے لگتے تھے۔ یوں بستی والوں کو علم ہو جاتا تھا کہ کوئی شخص ان کے علاقے میں آیا ہے ۔ البتہ اس دن ایسی کوئی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی ۔ اس بات پہ جو لیول حیران ہو رہا تھا جیسے جیسے وہ بستی کے نزدیک ہوتا جا رہا تھا ویسے ویسے اس کے دل میں کسی نہ کسی نامعلوم گڑبڑ کا احساس شدت اختیار کرتا جا رہا تھا۔ آخر جب جو لیول پستی تک پہنچا تو اس نے دیکھا کہ دور دور تک کسی کا کوئی نام و نشان موجود نہیں ہے، اور نہ ہی کتے کہیں نظر آ رہیں۔
البتہ بستی کے چند مختلف گھروں سے دھواں اٹھ رہا تھا جو اس بات کی علامت تھی کہ ان خیموں میں آگ جل رہی ہیں اور کوئی نہ کوئی اندر موجود ہو۔ یہ سب دیکھ کر جو لیول کی پریشانی اور زیادہ بڑھ گئی اور وہ سوچنے لگا کہ آخر تمام بستی والے کہاں چلے گئے ہیں۔ جو لیول کو یہاں پر کسی کی آواز تک نہیں آرہی تھی ۔ جو لیول آہستہ آہستہ پوری بستی میں گھومنے لگا لیکن اسے کسی بھی گھر سے کسی بھی انسان کی آواز سنائی نہیں دی تھی۔ اس وقت تک رات کا اندھیرا پھیلنا شروع ہو چکا تھا اور اسی وجہ سے جو لیول کے دل میں آہستہ آہستہ خوف اور دہشت پھیلنے لگی ۔ آخر کار جو لیول نے ہمت پکڑی اور بستی کے ایک گھر میں داخل ہو گیا اس نے دیکھا کہ اس گھر میں تمام کا تمام سامان موجود ہے لیکن کوئی فرد بھی گھر میں موجود نہ ہے۔
![]() |
| Lake Anjikuni Mystery |
جو لیول نے اس بستی کے 50 سے 60 گھروں کو پوری طرح سے کنگال لیا لیکن پوری بستی میں انسان ایسے غائب ہو چکے تھے جیسے وہ اچانک کہیں چلے گئے ہوں۔ مختلف گھروں میں کھانا پکنے کے لیے چولہے پہ رکھا ہوا تھا اور وہ کھانا پکتے پکتے جل چکا تھا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ یہاں پہ رہنے والے لوگوں نے اپنے رات کے کھانے کا کوئی انتظام کیا تھا۔ لیکن پھر وہیں کھانا چولہے پر چھوڑ کر ایک دم سے وہ سارے لوگ کہیں غائب ہو گئے بستی کی ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر موجود تھی اور کسی بھی قسم کے ہنگامے کے کوئی اثار نہیں آرہے تھے۔ وہیں پہ جو لیول کو بستی کے تمام کتے ایک ہی رسی سے باندھے ہوئے ملے ان کے سامنے کھانا بھی تھا البتہ وہ تمام کتے بھوک کے مارے مر چکے تھے۔
یہ سب کچھ دیکھ کر جو لیول کی ہمت جواب دے گئی اور وہ سر پر بھاگتا ہوا قریبی موجود کینیڈین رائل ماؤنٹن فورس کےآفس کی طرف چل پڑا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ٹیلی گراف کے ذریعے ہیڈ کوارٹر میں اطلاع دی اور چند ہی گھنٹوں میں سکیموں کی وہ پوری بستی کینیڈین پولیس اور رائل کینیڈین ماؤنٹ فورس کے گھیرے میں تھی ۔ پولیس نے اپنی تحقیقات کا آغاز کیا تو انہیں بھی کچھ سمجھ نہیں آئی کہ آخر یہ تمام لوگ اچانک اس طرح سے کہاں غائب ہو گئے۔ کتوں کو مرے ہوئے اٹھ دن گزر چکے تھے اور جس دن جو لیول اس بستی میں پہنچا تھا وہ 26 نومبر سے ایک دن پہلے کی تاریخ بتائی جاتی ہے ۔
وہاں پہ موجود چیزوں کو دیکھ کر کینیڈین پولیس نے اندازہ لگایا کہ یہ تمام لوگ آج سے سات یا آٹھ دن پہلے اس بستی سے غائب ہو چکے ہیں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ پوری بستی کے ارد گرد اور پوری بستی میں برف کے ڈھیر موجود تھے۔ لیکن کہیں پہ بھی کسی طرح سے برف پہ انسانی قدموں کا کوئی نشان نہیں تھا۔ وہاں صرف ایک ہی شخص کے قدموں کے نشان تھے جو جولیول کے تھے ۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ بستی میں موجود لوگ کہیں بھی چل کر نہیں گئے تو پھر پہلے اس بستی کے 150 سے 200 افراد ایک دم سے کیسے غائب ہو گئے۔
![]() |
| Lake Anjikuni Mystery |
پولیس نے سر توڑ کوشش کی اور اگلے کئی دنوں تک Lake Anjikuni اور سکیموں قبیلے کے آس پاس کے سینکڑوں کلومیٹر علاقے میں سرچ آپریشن کیا لیکن اسکیموں قبیلے کا ایک بھی شخص نہیں مل سکا ۔ ایسا لگتا تھا جیسے آسمان سے کچھ طاقت اتری ہو اور بستی کے تمام لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے بیٹھے غائب ہو گئے ۔ یہ بات اس قدر حیران کن تھی کہ جس نے وہاں پہ سر چ آپریشن میں موجود تمام پولیس اہلکاروں کے دل میں بھی خوف اور دہشت ڈال دی ۔ پولیس کی سر توڑ کوششوں کے باوجود بھی جب کوئی سراغ نہ مل سکا تو اس کیس کو ناقابل حل قرار دے کر بند کر دیا گیا۔ آج سوسال گزر جانے کے باوجود کوئی بھی اس معمہ کو حل نہ کرسکا اور یوں اسکیموں قبیلہ ایک معمہ بن کر رہ گیا۔
https://heylink.me/whatsappgroup/
https://heylink.me/irhakiduniya/
https://heylink.me/girlwhatsappgroups/
https://heylink.me/Islamicsites/




0 تبصرے