ویسے تو تمام اہل بیت عظام علیہم السلام سراپا رحمت ور افت اور منبع رشد و برکت ہیں اور علم میں، حلم میں سخاوت میں، فیاضی میں، ہدایت میں ہرایک شخصیت مثل خورشید ہے لیکن کچھ شخصیات اہل بیت اطہار علیہم السلام کو بار گاہ الٰہی سے خصوصی نعمتیں عطا ہوئی ہیں اور انھیں بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں منفرد اعزاز و مقام حاصل رہا ہے۔
- سیده خدیجتہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا اوصاف حمیدہ
طیبہ، ذکیہ، عابدہ، ساجده، طاهرہ سیده خدیجتہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا بھی وہ عظیم "ام المومنین" ہیں جنھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہاں ہمیشہ ایک خاص مقام حاصل رہا۔ آپ نہ صرف اہل بیت اطہار علیہم السلام کی عظیم شخصیت ہیں بلکہ تمام آل پاک کی جدہ کریمہ ہیں ۔ ملیکتہ العرب سیدہ خدیجہ سلام اللہ علیہا کے فضائل و مناقب حدیث کی کتابوں میں کثرت سے موجود ہیں اور لسان رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ارشاد شدہ ہر فضیلت و منقبت ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے۔
صحیح بخاری و مسلم میں سید نا علی المرتضی کرم اللہ وجہ الکریم سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے زمانے کی سب سے بہترین عورت ( سیدہ ) مریم (سلام اللہ علیہا) ہیں اور (اسی طرح) اپنے زمانے کی سب سے بہترین عورت ( سیدہ) خدیجہ (سلام اللہ علیہا) ہیں ۔
صحیح بخاری میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیہا سے روایت ہے کہ " مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ پر اتنا ر شک نہیں آتا جتنا سیدہ خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا پر،حالاں کہ میں نے انھیں دیکھا نہیں ہے، لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر ان کا ذکر فرماتے رہتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی بکری ذبح فرماتے تو اس کے اعضا کو علیحدہ علیحدہ کر کے انھیں سیدہ خدیجہ سلام اللہ علیہا کی ملنے والی خواتین کے یہاں بھیجتے۔ کبھی میں اتنا عرض کر دیتی کہ دنیا میں کیا سیدہ خدیجہ سلام اللہ علیہا کے سوا اور کوئی عورت نہیں ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے : ہاں وہ ایسی ہی یگانہ روزگار تھیں اور میری اولاد بھی ان سے ہے۔"
- روئے زمین پر پہلی کلمہ گو
ام المومنین سیدہ خدیجہ سلام اللہ علیہا وہ عظیم خاتون تھیں جو خواتین میں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لائیں اور چونکہ ایک مال دار اور صاحب ثروت گھرانے سے آپ کا تعلق تھا اس لیے اپنا سارا مال و متاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے اسلام پر قربان کر دینے میں لمحہ بھر بھی تو قف نہ کیا اس لیے ائمہ تفسیر نے لکھا ہے کہ ظاہری طور پراللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا کے مال سے غنی فرما دیا۔
- سیده خدیجتہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کا مشکل حالات میں ساتھ
سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا نے ان مشکل وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ دیا جب چاروں طرف مخالفین تاک میں بیٹھے ہوتے تھے اس لیے مختلف احادیث کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے سید ہ خدیجہ سلام اللہ علیہا کو اور ان کی قربانیوں کو یاد کرتے تھے ، سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا جتنا عرصہ ظاہری طور پر حیات رہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقد ثانی بھی نہ فرمایا۔
ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہوآلہ وسلم نے فرمایا کہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا نے اس وقت میرا ساتھ دیا جب میرا ساتھ دینے والا کوئی نہیں تھا اور اس وقت اپنے مال سے میری مدد کی جب لوگوں نے پابندیاں لگار تھی تھیں ۔" آپ بے مثال سیرت، اعلیٰ اخلاق، بلند کردار ، عفت و عظمت اور شرافت ومرتبہ کی وجہ سے پورے مکہ مکرمہ میں " طاہرہ" کے پاکیزہ لقب سے مشہور تھیں۔
- ملیکتہ العرف کا خطاب
یوں تو آپ کی پوری حیات مبارک ، اوصاف طیبہ سے مزین اور عبارت تھی، چاہے عفت و پاک دامنی ہو یا اخلاق و پاکیزگی ہو، خدمت خلق ہو یا وحدانیت پر ایمان ہو، ہر ایک کی مدد ہو یا بے سہاروں کا سہارا بننا ہو، غریب پروری ہو یا دسترخوان کی کشادگی ہو لیکن آپ کی صفت فیاضی اور آپ کی جود وسخا کچھ انفرادی اہمیت رکھتی تھی۔ اگر چہ آپ دنیادی اعتبار سے عرب کے نہایت ممتاز گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اور آپ کو ملیکۃ العرب" کہا جا تا تھا لیکن آپ کی سخاوت میں ظاہری آسودگی کی بجائے قلبی غنا کا پہلو اہمیت کا حامل تھا کیوں کہ سخاوت و فیاضی کا تعلق مال و متاع سے بہت ہی کم اور باطنی جود و کرم سے زیادہ ہوتا ہے اور یہی ایک نکتہ سیدہ خدیجہ سلام اللہ علیہا کے قلب مبارک کے مظہر ہونے پر اہم دلیل ہے۔ انھیں اللہ تعالی نے جبریل امین علیہ السلام کے ذریعہ آسمان سے سلام بھیجا، آپ نے شعب ابی طالب میں رسول کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محصور رہ کر رفاقت و محبت اور وارفتگی و ایثار کا مثالی کردار پیش کیا، فروغ و اشاعت دین کے لیے اپنا سارا مال و متاع دہلیز در مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان کر دیا۔
- سیده خدیجتہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی سخاوت
آپ کی سخاوت پورے عرب میں مشہور تھی کیوں کہ اللہ تعالی نے آپ کے والد کو تجارتی لحاظ سے بہتنوازا تھا اور سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا اپنے والد کے مال و متاع کی وارث تھیں۔ عرب کے یتیموں ، بیواؤں اور غریبوں پر آپ بہت خرچ کرتی تھیں کبھی کوئی سائل آپ کے دروازے سے خالی نہیں لوٹتا تھا بلکہ ہمیشہ با مراد و اپس جاتا ۔
جب بھی کسی ضرورت مند کو کوئی حاجت یا طلب ہوتی تو اسے یقین ہوتا تھا کہ اس دروازے سے کبھی خالی نہیں لوٹا یا جاوں گا۔ آپ نے رسول اکرم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی والدہ سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا اور ان کے پورے قبیلے کی خشک سالی کے دوران بہت زیادہ معاونت فرمائی۔ ابن سعد بیان کرتے ہیں کہ سید و حلیمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مکہ مکرمہ پہنچیں، یہ وہ زمانہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا سے عقد فرما چکے تھے ۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عسرت ، خشک سالی، اور مویشیوں کے ہلاک ہونے کا ذکر کیا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا سے اس بارے میں ذکر کیا تو انھوں نے اپنے ذاتی مال میں سے چالیس بکریاں دیں اور سواری کے لیے اونٹ بھی پیش کیا جوسامان سے لدا ہوا تھا۔
- سیده خدیجتہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا رفیقا حیات
مقاطعہ شعب ابی طالب میں حجاز مقدس کی رئیسہ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولین رفیقہ حیات سیدہ خدیجہ الکبری سلام الله علیہا نے وفاداری، خدمت گزاری حوصلہ افزائی اور جانثاری کی ایک مثال قائم فرمائی۔ نہ شکوہ و شکایت کے الفاظ زبان پر آئے بلکہ صبر وشکر سے دن بسر فرمائے۔
- سیده خدیجتہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی رحلت
آپ تقریباً 25 سال تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانثار، اطاعت گزار اور وفا شعار زوجہمبارکہ بن کر حیات رہیں اور بعثت کے دسویں سال اور ہجرت سے تین سال قبل 64 سال کی عمر پا کر ماہ رمضان المبارک کی 10 تاریخ کو مکہ معظمہ میں وصال با کمال فرما گئیں۔ اس وقت نماز جنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا، مقام حجون ( جنت المعلی ) میں آرام گاہ بنائی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنفس نفیس قبر انور میں اترے اور اپنے دست مبارک سے اپنے سب سے بڑے غمگسار کو خالق ایزدی کے سپرد کیا۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہانے اپنی فہم و فراست حکمت و تد بر پا کیز اخلاق وسیرت رحم دلی اور غریب پروری جیسی صفات عالیہ کے ایسے روشن مینار قائم کیے جن کی نورانی شعاعوں سے عالم نسوانیت قیامت تک روشنی ور ہنمائی حاصل کرتار ہے گا۔
(کتابیات: الطبقات الکبری، الاصابه ، تذکار صحابیات ،مثالی خواتین اسلام )
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
#syedaKhadijatulKubraAS #1st_wifeofHazrat_MuhammadPBUH



0 تبصرے