ساتویں آسمان پر بنا ایک مقدس گھر۔
ستر ہزار فرشتے اس گھر کے گرد مسلسل طواف کر رہے ہیں۔ یہ گھر کس نے بنایا ہے؟ اور معراج کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں کیا دیکھا تھا ؟
| بیت المعمور کہاں پر ہے |
جب حضرت آدم علیہ السلام اس زمین پر تشریف لائے تو اللہ کے حضور میں یہ سوال کیا کہ اے پاک پروردگار یہاں نہ تو میں فرشتوں کی تسبیح سن سکتا ہوں اور نہ ہی کوئی ایسی جگہ دیکھتا ہوں جہاں میں تیری عبادت کروں۔ لہذا اللہ کی طرف سے یہ جواب آیا کہ جس طرح تم نے ساتویں آسمان پر بیت المعمور کو دیکھا ہے ، جس کے گرد فرشتے طواف کرتے ہیں تو ہم تمہیں ایک جگہ بتاتے ہیں وہاں تم بھی کعبہ کی تعمیر کرو اور اس کے گرد طواف کروں اور وہاں نماز ادا کرو۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضرت آدم کو وہ جگہ دکھائی اور وہاں اپنی پر مار کر سات زمینوں کی بنیاد ڈال دی۔ پھر چاروں طرف سے دیوار بلند کر دی۔ اس خانہ خدا کی تعمیر نو حضرت نوح علیہ السلام نے کی اور پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی تعمیر کو مکمل کیا جسے ہم خانہ کعبہ کہتے ہیں۔
| خانہ کعبہ کے عین اوپر آسمان پر موجود بیت المعمور |
ساتویں آسمان پر موجود وہ مقدس گھر کیا تھا؟ جس کی مشاہبت میں حضرت آدم نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ دراصل بیت المعمور کے معنی آباد گھر ہے۔ حقیقت میں یہ فرشتوں کا کعبہ ہے جو ساتویں آسمان موجود ہے جو کہ عین خانہ کعبہ کے اوپر ہے۔ فرشتے اس گھر کا طواف کرتے ہیں۔ بیت المعمور زمین اور آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے تخلیق کیا گیا۔ روایتوں کے مطابق ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اور طواف کے لیےآتے ہیں۔ اور ایک دفعہ طواف کرنے کے بعد ان کو قیامت تک دوبارہ موقع نہیں ملے گا۔ اس طرح ہر روز نئے ستر ہزار فرشتے آ جاتے ہیں ۔
![]() |
| حضرت جبرائیل علیہ السلام بحکم رب کریم خانہ کعبہ کی جگہ بتاتے ہوئے |
حدیث میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات آسمانوں کے سفر پر گئے تو آپ کا گزر بیت المعمور کے پاس ہوا۔ آپ نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت المعمور پر ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ روایت یوں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے ساتویں آسمان پر چڑھایا گیا وہاں ایک ادھیڑ عمر کے بزرگ بیت المعمور کے دروازے کے قریب ایک کرسی پر ٹیک لگائے تشریف فرما تھے ۔ ان کی شکل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ کون ہے حضرت جبرائیل نے عرض کیا یہ آپ کے باپ حضرت ابراہیم ہے۔
ابن ابی حاتم کی روایت کی مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان میں ایک گھر ہے جس سے معمور کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے۔ چوتھی آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر ھیواں ہے۔ حضرت جبرئیل ہر روز اس میں غوطہ لگاتے ہیں اور نکل کر بدل جاتے ہیں۔ جس سے ستر ہزارقطرے گرتے ہیں اور ہر ایک قطرے سے اللہ پاک ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں۔ ان فرشتوں کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں کسی جگہ کھڑا ہو جائے۔ پھر وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی پاکیزہ تسبیح کے بیان میں خود کو گم کر دیتے ہیں۔
![]() |
| بیت المعمور پر فرشتوں کا طواف کرنا |
حضرت امام علی علیہ السلام سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ آسمان میں ہے اسے سراح کہا جاتا ہے۔ یہ کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے۔ جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے۔ اسی طرح وہ آسمان کا کعبہ ہے ۔ ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں۔ لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آئی گی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی بہت زیادہ ہے۔
![]() |
| پرانا خانہ کعبہ |
روایتوں کے مطابق معراج کی رات بیت المقدس میں تمام انبیاء کرام اور مرسلین نے نماز پڑھی اور بیت المعمور میں تمام انبیاء اور پچھلی امتوں کے ایمان والوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں نماز ادا کی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت المعمور کے قریب گئے تو وہاں کچھ فرشتوں کو دیکھا کچھ رکوع میں تھے کچھ سجود میں تھے اور کچھ قیام میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل سے دریافت کیا کہ یہ کیا کر رہے ہیں حضرت جبرئیل نے بتایا کہ یہ نماز ادا کر رہے ہیں اور جو فرشتہ جس انداز میں ہے وہ قیامت تک نہیں ایسا ہی رہے گا۔
آپ کو یہ عبادت اتنی زیادہ پسند آگئی کہ آپ نے اللہ سے اپنی امت کے لیے نمازوں کا تحفہ مانگ لیا۔ اللہ نے اہل ایمان پر رحم کیا اور ایسی نماز عطا کی گئی جس میں تمام عبادتوں کا مجموعہ تھا ۔ یعنی ہم ایک ہی نماز میں رکوع قیام اور سجدہ کرتے ہیں۔
سورۃ طور میں اللہ تبارک و تعالی نے اس مقدس گھر کا ذکر یوں کیا ہے، قسم ہے طورکی اور اس کتاب کی جو لکھی گئی ہے کشادہ ورقوں میں اور بیت المعمور یعنی اس آباد گھر کی قسم ہے اور اونچی چھت کی اور جوش مارتے ہوئے سمندر کی ، بے شک آپ کے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔
![]() |
| مقدس تالاب جس میں غسل کےبعد فرشتے بنتےہیں |
محققین نے بیت المعمور کو ہماری اس کائنات کا مرکز قرار دیا ہے۔ جیسا کی کعبہ شریف ہماری اس دنیا کا مرکز ہے جس کے گرد تمام بندی طواف کرتے ہیں۔ اسی طرح سولر سسٹم میں تمام سیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں اور ہزاروں سورج ہماری کہکشاں یعنی ملکی وے گیلکسی کے گرد چکر کاٹتی ہے۔ یہ لاکھوں کہکشاں بھی ایک سپر میسِو بلیک ہول کے گرد گھوم رہی ہے۔
![]() |
| طواف بیت المعمور |
اسی طرح تمام فرشتے بیت المعمور کے گرد چکر کاٹ رہے ہیں۔ بے شک اللہ نے اس کائنات کے نظام میں ہمارے لیے توحید کے پیغام کو کھول کر رکھ دیا ہے کہ انسان کی زندگی کا بھی ایک مرکز ہونی چاہیے جس کے اصولوں کا اسے پابند ہونا ہے وہ مرکز اللہ کی ذات ہے جس کے گرد گھوم کر اور اس کی اطاعت میں رہ کر ہی فلاح پائی جا سکتی۔
۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔





0 تبصرے